اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی روزنامہ الاخبار نے رپورٹ دی ہے کہ لبنان میں سیاسی حلقے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع کے درمیان لبنان سے متعلق ہونے والی گفتگو اور حزب اللہ کے خلاف تعاون سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے واضح کیا کہ حزب اللہ کے معاملے میں شام کا کوئی کردار نہیں ہے۔
نبیہ بری نے الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تمام معاملات مکمل وضاحت کے ساتھ زیر بحث آئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آخرکار لبنان سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج نکات ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، لہٰذا انہی کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب عین التینہ سے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حوالے سے شام کے تعاون سے متعلق ٹرمپ کے بیانات دراصل لبنان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں۔
ذرائع کے مطابق نبیہ بری اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان تعلقات بدستور انتہائی سرد ہیں، جبکہ سعودی عرب کے خصوصی نمائندے یزید بن فرحان کی ثالثی کی کوششیں بھی اب تک کسی نمایاں پیش رفت کا باعث نہیں بن سکیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں صرف جوزف عون کے مشیر آندرے رحال اور رکن پارلیمنٹ علی حسن خلیل کے درمیان محدود رابطہ قائم ہوا ہے، تاہم اختلافی معاملات میں کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
آپ کا تبصرہ